اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا
’’اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
وضاحت: نبی اکرم ﷺ جب بادل یا آندھی دیکھتے تو فکرمندی کے آثار چہرۂ انور پر ظاہر ہوتے، اس اندیشے سے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو۔
حوالہ: سنن أبی داود: 5097، سنن ابن ماجہ: 3889
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا وَخَیْرَ مَآ اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَآ اُرْسِلَتْ بِہٖ
’’اے اللہ‘! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس چیز کی بھلائی کا جو اس میں ہے اور اس چیز کی بھلائی کا جس کے ساتھ اسے ب ھیجا گیا ہے اور میں اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس چیز کے شر سے جو اس میں ہے اور اس چیز کے شر سے جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے۔‘‘
وضاحت: آندھی اور ہوا کے شر سے بچنے اور اس کے ذریعے ملنے والی خیر کے لیے جامع دعا۔
حوالہ: صحیح مسلم: 2084، جامع الترمذی: 3449