اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ
’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندۂ جاوید (اور) قائم و دائم ہے۔ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے وہ جو اس کے ہاں سفارش کرسکے مگر اس کی اجازت سے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے۔ اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہ بلندتر، نہایت عظمت والا ہے۔‘‘
وضاحت: یہ قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے۔ اسے ہر فرض نماز کے بعد، سونے سے پہلے اور صبح و شام پڑھنے کی فضیلت احادیث میں آئی ہے۔ یہ حفاظت اور برکت کا ذریعہ ہے۔
حوالہ: سورۃ البقرۃ: 255