مصائب و مشکلات سے نجات کی دعائیں

8 Duas
2.00x

وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ

’’اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، اس کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں، وہ نہایت مہرہان، بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

وضاحت: اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم والی آیات اور دعائیں

حوالہ: البقرۃ 163:2، سنن أبی داود:1496، جامع الترمذی:3478، سنن ابن ماجہ:3155

الٓمَّٓ ۙ﴿۱﴾ اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ؕ﴿۲﴾

’’ا-ل-م، وہ اللہ ہے، اُس کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں، زندہ ہے، سب کو سنبھالے ہوئے ہے۔‘‘

حوالہ: آل عمران 3: 1۔2، سنن أبی داود:1496، جامع الترمذی:3478، سنن ابن ماجہ:3155

اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ

’’وہ اللہ ہے، اُس کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں، زندہ ہے، سب کو سنبھالے ہوئے ہے۔‘‘

حوالہ: البقرۃ 255:2، والمستدرک للحاکم:506/1، حدیث:1866

وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ

’’اور سب چہرے حی وقیوم (اللہ) کے آگے جھک جائیں گے۔‘‘

حوالہ: طٰہٰ 111:20، والمستدرک للحاکم:506/1، حدیث:1866

لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ

’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے یقیناً میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘

وضاحت: یقین اور توجہ کے ساتھ یہ دعا پڑھتے رہنے سے پریشانی ختم ہوجاتی ہے۔(الأنبیآء 88:21)

حوالہ: الأنبیآء 87:21 جامع الترمذی:3505، والمستدرک للحاکم:506,505/1

اَللّٰھُمَّ اِنِّـیْٓ اَسْئَلُکَ یَآ اَللّٰہُ بِاَنَّکَ الْوَاحِدُ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا اَحَدٌ، اَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ

’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! اس لیے کہ تو واحد ہے، یکتا ہے، ایسا بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔ (میں سوال کرتا ہوں) کہ تو میرے گناہ بخش دے، یقیناً تو بہت زیادہ بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘

حوالہ: سنن النسائی:1302، ومسند أحمد: 338/4

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ، اَلْمَنَّانُ، یَا بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ)

’’اے اللہ! یقیناً میں تجھ سے اس لیے سوال کررہا ہوں کہ ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تجھ اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں، تیرا کوئی حصے دار نہیں، (تو) بے حد احسان کرنے والا ہے۔ اے آسمانوں اور زمین کو بے مثل پیدا کرنے والے، اے صاحبِ جلال اور عزت والے! اے زندۂ جاوید! اے قائم و دائم! بے شک میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

وضاحت: قوسین والے الفاظ کے لیے ابوداؤد اور احمد کی روایت دیکھیں۔

حوالہ: سنن ابن ماجہ:3858، سنن أبی داود:792، مسند أحمد:245/3

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ بِاَنِّیْٓ اَشْھَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ

’’اے اللہ! بلاشبہ میں تجھ سے اس لیے سوال کررہا ہوں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو یکتا ہے، ایسا بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور کوئی بھی اس کا ہم پلہ نہیں۔‘‘

حوالہ: سنن أبی داود:1493، جامع الترمذی:3475