اَللّٰہُ اَکْبَرُ (3 بار)، سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ، وَاِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہٗ، اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَآءِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْٓءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ
’’اللہ سب سے بڑا ہے (تین بار)۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم اسے قابو میں کرلینے والے نہیں تھے۔ اور یقیناً ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے، اپنے اس سفر میں نیکی، تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند فرمائے۔ اے اللہ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کردے اور اس کی لمبی مسافت ہم سے لپیٹ دے۔ اے اللہ! اس سفر میں تو ہی (ہمارا) ساتھی ہے اور گھر والوں میں جانشین ہے۔ اے ال لہ! میں سفر کی مشقت، تکلیف دہ منظر اور مال اور گھر والوں میں بری تبدیلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ، حدیث:1342
اٰئِبُوْنَ، تَآئِبُوْنَ، عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ
’’(ہم) واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں۔‘‘
وضاحت: نبیٔ اکرم ﷺ سفر سے واپسی پر آغازِ سفر کے کلمات کے ساتھ ان الفاظ کا اضافہ فرماتے تھے۔
حوالہ: صحیح مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ، حدیث:3275