صبح و شام کے اذکار اور دعائیں

26 Duas
2.00x

حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ

’’مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا رب ہے۔‘‘

وضاحت: صبح و شام سات مرتبہ:

حوالہ: سنن أبی داود، الأدب، باب مایقول إذا أصبح؟ حدیث:5081، وعمل الیوم واللیلۃ لابن السنی، حدیث:71۔

اَصْبَحْنَا وَاَصْبَحَ الْمُلْکُ لِلّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، رَبِّ اَسْئَلُکَ خَیْرَ مَا فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ وَخَیْرَ مَا بَعْدَہٗ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ وَشرِّ مَا بَعْدَہٗ، رَبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَسُوْءِ الْکِبَرِ رَبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابٍ فِی النَّارِ وَعَذَابٍ فِی الْقَبْرِ

’’ہم نے صبح کی اور اللہ کے سارے ملک نے صبح کی اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اے میرے رب! میں تجھ سے اس دن کی بہتری کا سوال کرتا ہوں اور اس دن کی بہتری کا جو اس کے بعد آنے والا ہے اور میں اس دن کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس کے بعد آنے والے دن کے شر سے۔ اے میرے رب! میں کاہلی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے رب! میں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

وضاحت: صبح کے وقت پڑھے:

حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فی الأدعیۃ، حدیث:6907، سنن أبی داود:5071، جامع الترمذی:3390

اَمْسَیْنَا وَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، رَبِّ اَسْئَلُکَ خَیْرَ مَا فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ وَخَیْرَ مَا بَعْدَھَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ وَشَرِّ مَا بَعْدَھَا، رَبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَسُوْءِ الْکِبَرِ رَبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابٍ فِی النَّارِ وَعَذَابٍ فِی الْقَبْرِ

’’ہم نے شام کی اور اللہ کے سارے ملک نے شام کی اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اے میرے رب! میں تجھ سے اس رات کی بہتری کا سوال کرتا ہوں اور اس رات کی بہتری کا جو اس کے بعد آنے والی ہے اور میں اس رات کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس کے بعد آنے والی رات کے شر سے، اے میرے رب! میں کاہلی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے رب! میں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

وضاحت: شام کے وقت پڑھے: جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی تو اس نے اس دن کا شکر ادا کردیا اور جس نے شام کے وقت یہ دعا پڑھی تو اس نے اس رات کا شکر ادا کردیا۔

حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فی الأدعیۃ، حدیث:6907، سنن أبی داود:5071، جامع الترمذی:3390

اَللّٰھُمَّ مَآ اَصْبَحَ بِیْ مِنْ نِّعْمَۃٍ اَوْ بِاَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکَ فَمِنْکَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ

’’اے اللہ! صبح کے وقت مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جو بھی انعام ہوا ہے، وہ تیری ہی طرف سے ہے۔ تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، پس تیرے ہی لیے سب تعریف ہے اور تیرے ہی لیے شکر ہے۔‘‘

وضاحت: صبح کے وقت پڑھے:

حوالہ: صحیح مسلم:6907، سنن أبی داود:5071، جامع الترمذی:3390

اَللّٰھُمَّ مَآ اَمْسٰی بِیْ مِنْ نِّعْمَۃٍ اَوْبِاَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکَ فَمِنْکَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ

’’اے اللہ! شام کے وقت مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جو بھی انعام ہوا ہے، وہ تیری ہی طرف سے ہے۔ تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، پس تیرے ہی لیے سب تعریف ہے اور تیرے ہی لیے شکر ہے۔‘‘

وضاحت: شام کے وقت پڑھے:

حوالہ: سنن أبی داود:5073، السنن الکبرٰی للنسائی:9835، ابن السنی:41

اَللّٰھُمَّ بِکَ اَصْبَحْنَا وَبِکَ اَمْسَیْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوْتُ وَاِلَیْکَ النُّشُوْرُ

’’اے اللہ! تیری ہی حفاظت میں ہم نے صبح کی اور تیری ہی حفاظت میں شام کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘

وضاحت: صبح ایک بار پڑھے:

حوالہ: سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 525/1، حدیث:262

اَللّٰھُمَّ بِکَ اَمْسَیْنَا وَبِکَ اَصْبَحْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوْتُ وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ

’’اے اللہ! تیری ہی حفاظت میں ہم نے شام کی اور تیری ہی حفاظت میں صبح کی اور تیرے ہی نام کے ساتھ ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام کے ساتھ ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے۔‘‘

وضاحت: شام کے وقت پڑھے:

حوالہ: سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 525/1، حدیث:262

یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ، وَلَا تَکِلْنِیْٓ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ

’’اے زندۂ جاوید! اے قائم و دائم! میں تیری ہی رحمت کے ذریعے سے مدد طلب کرتا ہوں، تو میرا ہر کام سنوار دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کرنا۔‘‘

وضاحت: صبح و شام ایک بار پڑھے:

حوالہ: المستدرک للحاکم: 545/1، حدیث:2000

اَصْبَحْنَا وَاَصْبَحَ الْمُلْکُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ خَیْرَ ھٰذَا الْیَوْمِ فَتْحَہٗ وَنَصْرَہٗ وَنُوْرَہٗ وَبَرَکَتَہٗ وَھُدَاہُ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْہِ وَشَرِّ مَا بَعْدَہٗ

’’ہم نے صبح کی اور اللہ رب العالمین کے سارے ملک نے صبح کی۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی بہتری مانگتا ہوں، اس کی فتح و نصرت، اس کا نور، اس کی برکت اور اس کی ہدایت اور میں اس دن کے شر اور اس کے بعد کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘

وضاحت: صبح ایک بار پڑھے:

حوالہ: سنن أبی داود، الأدب، باب مایقول إذا أصبح؟ حدیث:5084

اَمْسَیْنَا وَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ فَتْحَھَا وَنَصْرَھَا وَنُوْرَھَا وَبَرَکَتَھَا وَھُدَاھَا، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَا بَعْدَھَا

’’ہم نے شام کی اور اللہ رب العالمین کے سارے ملک نے شام کی۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی بہتری مانگتا ہوں، اس کی فتح و نصرت، اس کا نور، اس کی برکت اور اس کی ہدایت اور میں تجھ سے اس رات کے شر اور اس کے بعد کے شر سے پناہ چاہتا ہوں۔‘‘

وضاحت: شام کے وقت ایک بار پڑھے:

حوالہ: سنن أبی داود، الأدب، باب مایقول إذا أصبح؟ حدیث:5084

اَصْبَحْنَا عَلٰی فِطْرَۃِ الْاِسْلَامِ وَعَلٰی کَلِمَۃِ الْاِخْلَاصِ وَعَلٰی دِیْنِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی مِلَّۃِ اَبِیْنَا اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ

’’ہم نے فطرتِ اسلام، کلمۂ اخلاص، اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین اور اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام، جو یک رخ (اور) فرماں بردار تھے، کی ملت پر صبح کی اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔‘‘

وضاحت: صبح کے وقت پڑھے:

حوالہ: مسند أحمد: 406/3، وعمل الیوم واللیلۃ لابن السنی، حدیث:34

اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ، اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ، اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ، لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ

’’اے اللہ! مجھے میرے بدن میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میرے کانوں میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میری آنکھوں میں عافیت دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اے اللہ! یقیناً میں کفر اور غربت سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اے اللہ! یقیناً میں عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

وضاحت: صبح و شام تین بار پڑھے:

حوالہ: سنن أبی داود:5090، مسند أحمد:42/5

بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ

’’اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کی برکت سے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، زمین کی ہو یا آسمانوں کی اور وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔‘‘

وضاحت: صبح و شام تین بار پڑھے:

حوالہ: سنن أبی داود:5088، جامع الترمذی:3388

اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ للّٰہِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

’’میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘

وضاحت: شام کے وقت تین مرتبہ پڑھے:

حوالہ: صحیح مسلم:6880، مسند أحمد: 290/2

رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا

’’میں اللہ کے ساتھ (اس کے) رب ہونے پر راضی ہوگیا اور اسلام کے ساتھ (اس کے) دین ہونے پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ (ان کے) نبی ہونے پر۔‘‘

وضاحت: صبح و شام تین بار پڑھے:

حوالہ: سنن أبی داود:5072، جامع الترمذی:3389، مسند أحمد: 337/4

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضَا نَفْسِہٖ، وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہٖ

’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی تعریفوں کے ساتھ، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی ذات کی رضا کے برابر، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔‘‘

وضاحت: صبح کے وقت تین مرتبہ پڑھے:

حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب التسبیح أول النھار، حدیث:6913

اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَ وَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاَبُوْءُ بِذَنۡۢبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّآ اَنْتَ

’’اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تجھ سے اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کا میں نے ارتکاب کیا، میں تیرے سامنے تیرے انعام کا اقرار کرتا ہوں جو مجھ پر ہوا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، لہٰذا تو مجھے معاف کردے۔ واقعہ یہ ہے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔‘‘

وضاحت: صبح اور شام پڑھے: یہ دعا سیدالاستغفار کہلاتی ہے۔

حوالہ: صحیح البخاری، الدعوات، باب أفضل الاستغفار، حدیث:6306

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَصْبَحْتُ اُشْھِدُکَ وَاُشْھِدُ حَمَلَۃَ عَرْشِکَ وَمَلَآئِکَتَکَ وَجَمِیْعَ خَلْقِکَ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ

’’اے اللہ! یقیناً میں نے ایسی حالت میں صبح کی کہ تجھے، تیرا عرش اٹھانے والے فرشتوں، تیرے (دیگر) فرشتوں اور تیری تمام مخلوق کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور بلاشبہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔‘‘

وضاحت: صبح چار مرتبہ پڑھے: جو شخص یہ دعا پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے آگ سے آزاد کرے گا۔

حوالہ: سنن أبی داود:5078,5069، جامع الترمذی:3501، نسائی:9838

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَمْسَیْتُ اُشْھِدُکَ وَاُشْھِدُ حَمَلَۃَ عَرْشِکَ وَمَلَآئِکَتَکَ وَجَمِیْعَ خَلْقِکَ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ

’’اے اللہ! یقیناً میں نے ایسی حالت میں شام کی کہ تجھے، تیرا عرش اٹھانے والے فرشتوں، تیرے (دیگر) فرشتوں اور تیری تمام مخلوق کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور بلاشبہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔‘‘

وضاحت: شام کے وقت چار مرتبہ پڑھے: جو شخص یہ دعا پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے آگ سے آزاد کرے گا۔

حوالہ: سنن أبی داود:5078,5069، جامع الترمذی:3501، نسائی:9838

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی دِیْنِیْ وَدُنْیَایَ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ، اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِیْ وَاٰمِنْ رَّوْعَاتِیْ، اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِیْ وَعَنْ یَّمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ وَاَعُوْذُ بِعَظَمَتِکَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ

’’اے اللہ! بے شک میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! بے شک میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا اور اپنے اہل و مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میرے عیبوں پر پردہ ڈال دے اور میری گھبراہٹوں میں امن دے۔ اے اللہ! تو میری حفاظت فرما میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے، میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے۔ اور میں تیری عظمت کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ ناگہاں اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔‘‘

وضاحت: صبح و شام پڑھے:

حوالہ: سنن أبی داود:5074، سنن ابن ماجہ:3871، مسند أحمد: 25/2

اَللّٰھُمَّ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّ کُلِّ شَیْءٍ وَّمَلِیْکَہٗ، اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہٖ وَاَنْ اَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِیْ سُوْٓءً ا اَوْ اَجُرَّہٗ اِلٰی مُسْلِمٍ

’’اے اللہ! غیب اور حاضر کے جاننے والے! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے اور اس بات سے کہ اپنے ہی خلاف کسی برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔‘‘

وضاحت: صبح و شام پڑھے:

حوالہ: سن أبی داود:5083، جامع الترمذی:3392

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ

’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘

وضاحت: صبح و شام دس بار اگر کاہلی کا شکار ہو تو ایک بار پڑھ لے۔ اس کے فضائل میں دس نیکیاں، دس گناہ معافی اور شیطان سے حفاظت شامل ہے۔

حوالہ: سنن أبی داود:5077، سنن ابن ماجہ:3867، مسند أحمد: 60/4

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ

’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی تعریف کے ساتھ۔‘‘

وضاحت: صبح و شام سو مرتبہ پڑھے: فضائل میں دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب اور شیطان سے حفاظت شامل ہے۔

حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل، حدیث:6843

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ

’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘

وضاحت: دن بھر میں کسی بھی وقت سو مرتبہ پڑھے:

حوالہ: صحیح البخاری:3293، صحیح مسلم:2691

اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ

’’میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘

وضاحت: دن میں سو مرتبہ پڑھے:

حوالہ: صحیح البخاری:6307، صحیح مسلم:2702

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ

’’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر۔‘‘

وضاحت: صبح و شام دس مرتبہ کوئی سا مسنون درود شریف پڑھے:

حوالہ: سنن النسائی:1293، مجمع الزوائد: 163/10، حدیث:17022