حمد و ثنا اور توبہ و استغفار

13 Duas
2.00x

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ

’’پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں سمیت۔‘‘

وضاحت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص ایک دن میں سو مرتبہ کہے: اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو معاف ہوجاتے ہیں۔

حوالہ: صحیح البخاری، الدعوات، باب فضل التسبیح، حدیث: 6405، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6842

سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ

’’پاک ہے اللہ عظمتوں والا اپنی تعریفوں کے ساتھ۔‘‘

وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص (ایک دفعہ) کہتا ہے:اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگادیا جاتا ہے۔

حوالہ: جامع الترمذی، الدعوات، باب فی فضالئل سبحان اللہ وبحمدہ، حدیث: 3464، والمستدرک للحاکم: 502,201/1، امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی موافقت کی ہے۔ دیکھیے صحیح الجامع الصغیر، حدیث: 6429، وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، حدیث:64

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ

’’پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں سمیت، پاک ہے اللہ بہت عظمت والا۔‘‘

وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’دو کلمے زبان پر ہلکے پھلکے ہیں (لیکن) میزان میں انتہائی وزنی اور اللہ تعالیٰ کو ازحد محبوب ہیں (اور وہ یہ ہیں):

حوالہ: صحیح البخاری، الأیمان والنذور، باب إذا قال: وَاللہِ! لا أتکلم الیوم، حدیث: 6682

سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ، وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ

’’اللہ پاک ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘

وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں یہ (کلمات) کہوں تو مجھے یہ عمل ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ (یہ کلمات کہناساری دنیا کی نعمتوں سے زیادہ محبوب ہے)۔‘‘

حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6847

سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ، وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

’’اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے اور برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘

وضاحت: باقیات صالحات (باقی رہنے والے عمل) یہ ہیں:

حوالہ: مسند أحمد: 268,267/4، والمستدرک للحاکم: 512/1، وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، حدیث: 3264، والسنن الکبری للنسائی: 212/6، حدیث: 10684، ومجمع الزوائد: 247/5، وموارد الظمان، حدیث: 2332

سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ، وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ

’’اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘

وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’چار کلمات اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہیں: ان میں سے جو بھی پہلے کہہ لیا جائے کوئی حرج نہیں۔

حوالہ: صحیح مسلم، الأدب، باب کراھۃ التسمیۃ بالأسماء القبیحۃ، حدیث: 5601

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ

’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘

وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص دس دفعہ یہ دعا پڑھے وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کیے۔

حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل والتسبیح والدعائ، حدیث: 6844، وجامع الترمذی، الدعوات، باب من قال کلمۃ التوحید، حدیث: 3553

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَّالْحَمْدُلِلّٰہِ کَثِیْرًا وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ

’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ سب سے بڑا، بہت بڑا ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، بہت زیادہ اور پاک ہے اللہ جو ساری کائنات کا رب ہے، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ غالب (اور) حکمت والے کی توفیق ہی سے۔‘‘

وضاحت: ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، کہنے لگا: مجھے کچھ کلام سکھائیں جو میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: ’’کہو:

حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6848، وسنن أبی داود، الصلاۃ، باب مایجزیء الأمی والأعجمی، حدیث: 832۔ ابوداود نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جب اعرابی واپس مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یقیناً اس آدمی نے اپنا ہاتھ خیر سے بھر لیا۔‘‘

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِیْ

’’اے اللہ! مجھے معاف فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے۔‘‘

وضاحت: جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے نماز سکھاتے، پھر اسے حکم فرماتے کہ ان کلمات سے دعا کیا کر:

حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعا، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6849۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ یہ کلمات تیرے لیے تیری دنیا اور آخرت جمع کردیں گے۔

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

’’گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘

وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟‘‘ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیوں نہیں! (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: ’’تم کہو:

حوالہ: صحیح البخاری، الدعوات، باب قول: لاحول ولا قوۃ الاّ باللہ، حدیث:6409، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الستحباب خفض الصوت، حدیث:6862

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ

’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘

وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ سب سے افضل دعا ہے:

حوالہ: جامع الترمذی، الدعوات، باب ماجاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ، حدیث: 3383، وسنن ابن ماجہ، الأدب، باب فضل الحامدین، حدیث: 3800، والمستدرک للحاکم: 503/1، وصحیح الجامع الصغیر، حدیث: 1104۔ امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ

’’اللہ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔‘‘

وضاحت: اور سب سے افضل ذکر ہے:

حوالہ: جامع الترمذی، الدعوات، باب ماجاء أن دعوۃ المسلم مستجابۃ، حدیث: 3383، وسنن ابن ماجہ، الأدب، باب فضل الحامدین، حدیث: 3800، والمستدرک للحاکم: 503/1، وصحیح الجامع الصغیر، حدیث: 1104۔ امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔

سُبْحَانَ اللّٰہِ

’’اللہ پاک ہے۔‘‘

وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی شخص روزانہ ایک ہزار نیکی کرنے سے عاجز ہے؟‘‘ ہم نشینوں میں سے کسی نے دریافت کیا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک ہزار نیکی کیسے کرے؟ آپ نے فرمایا: ’’وہ سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے تو اس کے لیے ایک ہزار نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اس کے ایک ہزار گناہ مٹادیے جاتے ہیں۔‘‘

حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث: 6852