اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، کُنْ لِّیْ جَارًا مِّنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانِ وَّاَحْزَابِہٖ مِنْ خَلَائِقِکَ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیَّ اَحَدٌ مِّنْھُمْ اَوْ یَطْغٰی، عَزَّ جَارُکَ وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ
’’اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کے رب! تو میرے لیے فلاں بن فلاں سے اور اس کے گروہوں سے جو بھی تیری مخلوق میں سے ہیں، پناہ دینے والا بن جا، اس بات سے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص بھی مجھ پر زیادتی یا سرکشی کرے۔ تیری پناہ مضبوط ہے اور تیری تعریف عظیم ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
وضاحت: یہاں "فلاں بن فلاں" کی جگہ اس شخص یا ظالم کا نام لیا جا سکتا ہے۔
حوالہ: الأدب المفرد، حدیث:707، وشرح صحیح الأدب المفرد للألبانی، حدیث:545
اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَعَزُّ مِنْ خَلْقِہٖ جَمِیْعًا، اَللّٰہُ اَعَزُّ مِمَّآ اَخَافُ وَاَحْذَرُ، اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، اَلْمُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ اَنْ یَّقَعْنَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِہٖ مِنْ شَرِّ عَبْدِکَ فُلَانٍ وَّجُنُوْدِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ وَاَشْیَاعِہٖ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ، اَللّٰھُمَّ کُنْ لِّیْ جَارًا مِّنْ شَرِّھِمْ جَلَّ ثَنَاؤُکَ وَعَزَّ جَارُکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَلَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ
’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اپنی تمام مخلوق سے سب سے زیادہ زور اور غلبے والا ہے۔ اللہ ان سے کہیں زیادہ طاقت والا ہے جن سے میں خوف کھاتا اور ڈرتا ہوں۔ میں اس اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو ساتوں آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے، مگر اس کی اجازت سے (گرسکتے ہیں) تیرے فلاں بندے کے شر سے، اس کے لشکروں کے شر سے، اس کے پیروکاروں اور اس کے ساتھیوں کے شر سے، خواہ جنوں سے ہوں یا انسانوں سے۔ اے اللہ! تو ان کے شر سے میرا پشت پناہ بن جا، تیری تعریف عظیم ہے اور تیری پناہ مضبوط ہے اور تیرا نام بہت بابرکت ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
وضاحت: اس دعا کو تین مرتبہ پڑھنا مسنون ہے۔
حوالہ: الأدب المفرد، حدیث:708، وشرح صحیح الأدب المفرد للألبانی، حدیث:546