اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ
’’اے اللہ! بلاشبہ میں عذاب قبر سے اور عذابِ جہنم سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الأذان، باب الدعاء قبل السلا، حدیث:832، وصحیح مسلم، المساجد، باب مایستعاذ منہ فی الصلاۃ، حدیث:588
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ
’’اے اللہ! بے شک میں عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! یقیناً میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الأذان، باب الدعاء قبل السلام، حدیث:832، وصحیح مسلم، المساجد، باب مایستعاذ منہ فی الصلاۃ، حدیث:589 واللفظ لہ۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اُرَدَّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ
’’اے اللہ! بلاشبہ میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں عمر کے ناکارہ ترین حصے کی طرف لوٹایا جاؤں اور میں دنیا کے فتنے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الدعوات، باب الاستعاذۃ من أرذل العمر، حدیث:6374
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَّلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّآ اَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْٓ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
’’اے اللہ! بلاشبہ میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا، پس تو اپنی خاص بخشش سے مجھے معاف فرمادے اور مجھ پر رحم فرما، یقیناً تو بہت بخشنے والا، انتہائی مہربان ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الأذان، باب الدعاء قبل السلام، حدیث:834، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الدعوات والتعوذ، حدیث:2705
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَآ اَعْلَنْتُ وَمَا اَسْرَفْتُ وَمَآ اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْٓ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ
’’اے اللہ! تو مجھے معاف کردے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو کچھ میں نے چھپ کر کیا اور جو کچھ میں نے سرِعام کیا اور جو میں نے زیادتی کی اور جسے تو مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے۔ تو ہی (ہر چیز کو اس کے مقام تک) آگے کرنے والا ہے اور تو ہی (اس سے) پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ودعائہ باللیل، حدیث:1812
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ
’’اے اللہ! بے شک میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم کی آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
حوالہ: سنن أبی داود، الصلاۃ، باب تخفیف الصلاۃ، حدیث:792
اَللّٰھُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبَ وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ اَحْیِنِیْ مَا عَلِمْتَ الْحَیَاۃَ خَیْرًا لِّیْ وَتَوَفَّنِیْٓ اِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاَۃَ خَیْرًا لِّیْ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ خَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ وَاَسْئَلُکَ کَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَاَسْئَلُکَ الْقَصْدَ فِی الْغِنٰی وَالْفَقْرِ وَاَسْئَلُکَ نَعِیْمًا لَّا یَنْفَدُ وَاَسْئَلُکَ قُرَّۃَ عَیْنٍ لَّا تَنْقَطِعُ وَاَسْئَلُکَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَآءِ وَاَسْئَلُکَ بِرْدَالْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَاَسْئَلُکَ لَذَّۃَ النَّظْرِ اِلٰی وَجْھِکَ وَالشَّوْقَ اِلٰی لِقَآئِکَ فِیْ غَیْرِ ضَرَّآءَ مُضِرَّۃٍ وَّلَا فِتْنَۃٍ مُّضِلَّۃٍ، اَللّٰھُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الْاِیْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مُّھْتَدِیْنَ
’’اے اللہ! اپنے غیب جاننے اور مخلوق پر قدرت رکھنے کے باعث مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم کے مطابق میرے لیے زندگی بہتر ہو اور مجھے اس وقت موت دینا جب تیرے علم کے مطابق میرے لیے موت بہتر ہو۔ اے اللہ! بے شک میں حاضر اور غائب (دونوں حالتوں) میں تجھ سے تیری خشیت کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے خوشنودی اور ناراضی (دونوں حالتوں) میں کلمۂ حق کی توفیق کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے مال داری اور تنگ دستی میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو اور تجھ سے آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو اور تجھ سے تیرے فیصلوں پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے موت کے بعد زندگی کی ٹھنڈک مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیرے چہرے کے دیدار کی لذت کا سوال کرتا ہوں اور تیری ملاقات کے شوق کا (جو) بغیر کسی تکلیف دہ مصیبت اور گمراہ کن فتنے کے (حاصل) ہو۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ رہنما بنا دے۔‘‘
حوالہ: سنن النسائی، السھو، باب نوع آخر، حدیث:1306، ومسند أحمد: 264/4
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسّئَلُکَ یَآ اَللّٰہُ بِاَنَّکَ الْوَاحِدُ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا اَحَدٌ، اَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! اس لیے کہ تو واحد ہے، یکتا ہے، ایسا بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔ (میں سوال کرتا ہوں) کہ تو میرے گناہ بخش دے، یقیناً تو بہت زیادہ بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘
حوالہ: سنن النسائی، السھو، باب الدعاء بعد الذکر، حدیث:1302، ومسند أحمد:338/4
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ، اَلْمَنَّانُ، یَا بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ)
’’اے اللہ! یقیناً میں تجھ سے اس لیے سوال کررہا ہوں کہ ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تجھ اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں، تیرا کوئی حصے دار نہیں، (تو) بے حد احسان کرنے والا ہے۔ اے آسمانوں اور زمین کو بے مثل پیدا کرنے والے، اے صاحب جلال اور عزت والے! اے زندۂ جاوید! اے قائم و دائم! اے اللہ! بے شک میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
حوالہ: سنن ابن ماجہ، الدعائ، باب اسم اللہ الأعظم، حدیث:3858۔ قوسین والے الفاظ کے لیے دیکھیے سنن أبی داود، الصلاۃ، باب تخفیف الصلاۃ، حدیث:792
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ بِاَنِّیْٓ اَشْھَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ
’’اے اللہ! بلاشبہ میں تجھ سے اس لیے سوال کررہا ہوں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو یکتا ہے، ایسا بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور کوئی بھی اس کا ہم پلہ نہیں۔‘‘
حوالہ: سنن أبی داود، الوتر، باب الدعائ، حدیث:1493، وجامع الترمذی، الدعوات، باب ماجاء فی جامع الدعوات عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حدیث:3475