سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ بِحَوْلِہٖ وَقُوَّتِہٖ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ
’’میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس نے اپنی طاقت اور قوت کے ذریعے سے اس کے کان اور آنکھ کے سوراخ بنائے، بڑا بابرکت ہے اللہ تعالیٰ جو بہترین خالق ہے۔‘‘
حوالہ: جامع الترمذی، الدعوات، باب مایقول فی سجودالقرآن؟ حدیث:3425، والمستدرک للحاکم:220/1، حدیث:802، امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی موافقت کی ہے اور یہ زائد الفاظ (فتبارک اللہ احسن الخالقین) بھی المستدرک للحاکم کے ہیں۔
اَللّٰھُمَّ اَکْتُبْ لِیْ بِھَا عِنْدَکَ اَجْرًا وَّضَعْ عَنِّیْ بِھَا وِزْرًا وَّاجْعَلْھَا لِیْ عِنْدَکَ ذُخْرًا وَّتَقَبَّلْھَا مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَھَا مِنْ عَبْدِکَ دَاوٗدَ
’’اے اللہ! میرے لیے اس (سجدے) کے عوض اپنے ہاں اجر لکھ دے اور اس کی وجہ سے مجھ سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے میرے لیے اپنے ہاں ذخیرہ بنادے اور اس (سجدے) کو میری طرف سے قبول فرما جیسے تو نے یہ (سجدہ) اپنے بندے داؤد (علیہ السلام) کی طرف سے قبول کیا تھا۔‘‘
حوالہ: جامع الترمذی، الدعوات، باب مایقول فی سجود القرآن؟ حدیث:3424، والمستدرک للحاکم:219/1، حدیث:799