لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ رَبِّ اغْفِرْلِیْ
’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اللہ پاک ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اور (برائی سے بچنے کی) ہمت ہے نہ (نیکی کرنے کی) طاقت مگر بلندی اور عظمت والے اللہ ہی کی توفیق سے۔ اے میرے رب! مجھے بخش دے۔‘‘
وضاحت: جو شخص رات کو کسی وقت بیدار ہوکر یہ کلمات کہے تو اُسے بخش دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی دعا کرے تو وہ قبول ہوتی ہے، پھر اگر وضو کرکے نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔
حوالہ: صحیح البخاری، التھجد، باب فضل من تعارمن اللیل فصلّٰی، حدیث: 1154، وسنن ابن ماجہ الدعائ، باب مایدعو بہ إذا انتبہ من اللیل، حدیث: 3878واللفظ لہ
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ مِنْ غَضَبِہٖ وَعِقَابِہٖ وَشَرِّ عِبَادِہٖ وَمِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَنْ یَّحْضُرُوْنِ
’’میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے سے پناہ مانگتا ہوں، اس کی ناراضی اور اس کی سزا اور اس کے بندوں کے شر اور شیطانوں کے وسوسہ ڈالنے (گناہوں پر ابھارنے اور اکسانے) سے اور اس بات سے کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں (اور مجھے بہکائیں۔)‘‘
حوالہ: سنن أبی داود، الطب، باب کیف الرقی؟ حدیث: 3893، وجامع الترمذی، الدعوات، باب: دعاء الفزع فی النو، حدیث: 3528