لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَرَبُّ الْاَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ
’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، (وہ) بہت عظمت والا، بڑا بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (جو) عرشِ عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے س وا کوئی معبود نہیں (جو) آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الدعوات، باب الدعاء عند الکرب، حدیث:6346، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب دعاء الکرب، حدیث:2730
اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّاَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ
’’اے اللہ! میں تیری رحمت ہی کی امید رکھتا ہوں، پس تو آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے اپنے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے لیے میرے سب کام سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
حوالہ: سنن أبی داود، الأدب، باب مایقول إذا أصبح؟ حدیث:5090، ومسند أ حمد: 42/5
اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّیْ لَآ اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
’’اللہ، اللہ میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘
حوالہ: سنن أبی داود، الوتر، باب فی الاستغفار، حدیث:1525