سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ
’’پاک ہے میرا رب عظمت والا۔‘‘
حوالہ: سنن أبی داود، الصلاۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ؟ حدیث:871، وجامع الترمذی، الصلاۃ، باب ماجاء فی التسبیح فی الرکوع والسجود، حدیث:261
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ
’’پاک ہے تو اے اللہ! اے ہمارے رب! اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے معاف فرمادے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الأذان، باب الدعاء فی الرکوع، حدیث:794
سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَّبُّ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَالرُّوْحِ
’’بہت ہی پاکیزہ، انتہائی مقدس، فرشتوں اور روح (جبرائیل) کا رب۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، الصلاۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود؟ حدیث:1091
سُبْحَانَ ذِی الْجَبَرُوْتِ وَالْمَلَکُوْتِ وَالْکِبْرِیَآءِ وَالْعَظَمَۃِ
’’پاک ہے بہت بڑی قدرت و طاقت والا اور بہت بڑی بادشاہت والا اور بڑائی اور عظمت والا۔‘‘
حوالہ: سنن أبی داود، الصلاۃ، باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ؟ حدیث:873، وسنن النسائی، التطبیق، باب نوع آخر من الذکر فی الرکوع، حدیث:1050
اَللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَلَکَ اَسْلَمْتُ خَشَعَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِیْ وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِہٖ قَدَمِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
’’اے اللہ! میں تیرے لیے ہی جھکا اور تجھ ہی پر ایمان لایا اور میں تیرا ہی فرماں بر دار بنا، اظہارِ عاجزی کیا میرے کانوں نے، میری آنکھوں نے، میرے دماغ نے، میری ہڈیوں نے، میرے پٹھوں نے اور (میرے اس جسم نے) جسے اٹھایا ہوا ہے میرے قدموں (پاؤں) نے اللہ رب العالمین ہی کے لیے۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ودعائہ باللیل، حدیث:1812، ومسند أحمد: 119/1واللفظ لہ۔