اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ
’’میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی (جو) سننے والا، جاننے والا ہے، شیطان مردود سے اس کی دیوانگی سے، اس کے کِبْر سے، اور اس کے شعروں سے۔‘‘
حوالہ: سنن أبی داود، الصلاۃ، باب من رأی الاستفتاح، حدیث:776، وصحیح ابن خزیمۃ: حدیث:775، وإرواء الغلیل: 53-51/2، وصفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم للألبانی، ص:77,76
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۴﴾ اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ۶ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾
’’(شروع) اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔ ’’تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو پالنے والا ہے تمام جہانوں کا۔ نہایت رحم کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔ مالک ہے یومِ جزا کا۔ تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔ دکھا ہمیں سیدھا رستہ، ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے انعام کیا جن پر تیرا غضب نہیں ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے۔‘‘
وضاحت: یاد رہے کہ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا لازمی ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الأذان، باب وجوب القراء ۃ للإمام والمأموم، حدیث:756۔