اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۲۵۵﴾
’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندۂ جاوید (اور) قائم و دائم ہے۔ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے وہ جو اس کے ہاں سفارش کرسکے مگر اس کی اجازت سے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے۔ اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہ بلندتر، نہایت عظمت والا ہے۔‘‘
وضاحت: جب تم بستر پر پہنچو اور آیۃ الکرسی: (اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ) مکمل پڑھو تو اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہوجائے گا اور شیطان صبح تک تمہارے قریب بھی نہ آسکے گا۔
حوالہ: صحیح البخاری، فضائل القرآن، باب فضل سورۃ البقرۃ، حدیث: 5010
اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟ وَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ٭۫ غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸۵﴾ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؕ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ عَلَیۡہَا مَا اکۡتَسَبَتۡ ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحۡمِلۡ عَلَیۡنَاۤ اِصۡرًا کَمَا حَمَلۡتَہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ۚ وَ اعۡفُ عَنَّا ٝ وَ اغۡفِرۡ لَنَا ٝ وَ ارۡحَمۡنَا ٝ اَنۡتَ مَوۡلٰىنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۸۶﴾٪
’’رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس (ہدایت) پر ایمان لائے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کی گئی ہے اور سارے مومن بھی، سب اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں:) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے اور وہ کہتے ہیں: ہم نے (حکم) سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اللہ کسی کو اس کی برداشت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، کسی شخص نے جو نیکی کمائی اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو اس نے برائی کی اس کا وبال بھی اسی پر ہے۔ اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کر، اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں، وہ ہم سے نہ اٹھوا اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔‘‘آمین
وضاحت: جو شخص درج ذیل دو آیات رات کے وقت پڑھتا ہے تو یہ اس کے لیے کافی ہوجاتی ہیں:
حوالہ: البقرۃ 286,285:2، وصحیح البخاری، فضائل القرآن، باب فصل سورۃ البقرۃ، حدیث: 5009، وصحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل الفاتحۃ وخواتیم سورۃ البقرۃ، حدیث: 1878
سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ
’’اللہ پاک ہے، ہر تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘
وضاحت: جو شخص بستر پر لیٹتے وقت 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللّٰہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہے، یہ اس کے لیے ایک نوکر سے بہتر ہیں۔
حوالہ: صحیح البخاری، الدعوات، باب التکبیر والتسبیح عند ا لمنام، حدیث: 6318، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب التسبیح أول النھار وعندالنوم، حدیث: 6915
اللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیَا
’’اے اللہ! تیرے ہی نام کے ساتھ میں مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔‘‘
وضاحت: بستر پر لیٹنے سے پہلے اسے اچھی طرح جھاڑے۔ دائیں پہلو پر لیٹے اور دائیں رخسار کے نیچے دایاں ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھے:
حوالہ: صحیح البخاری، الدعوات، باب مایقول إذا نام؟ حدیث: 6312، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الدعاء عند النوم، ح دیث: 6887، ومسند أحمد: 385/5 واللفظ لہ۔
بِاسْمِکَ رَبِّیْ وَضَعْتُ جَنْۭبِیْ وَبِکَ اَرْفَعُہٗ اِنْ اَمْسَکْتَ نَفْسِیْ فَارْحَمْھَا وَاِنْ اَرْسَلْتَھَا فَاحْفَظْھَا بِمَا تَحْفَظُ بِہٖ عِبَادَکَ الصّٰلِحِیْنَ
’’اے میرے رب! تیرے ہی نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو (بستر پر) رکھا اور تیرے ہی نام کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا، لہٰذا اگر تو میری روح روک لے تو اس پر رحم فرمانا اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی ایسے حفاظت فرمانا جیسے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔‘‘
وضاحت: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر سے اٹھے اور پھر دوبارہ اس کی طرف آئے تو اسے اپنی چادر کے دامن سے تین مرتبہ جھاڑے اور بِسْمِ اللّٰہِ کہے۔ کیا معلوم اس کے بعد اس پر کیا چیز آگئی ہے۔ اور جب لیٹے تو یہ دعا پڑھے:
حوالہ: صحیح البخاری، الدعوات، باب، حدیث: 6320، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الدعاء عند النوم، حدیث: 6892
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ خَلَقْتَ نَفْسِیْ وَاَنْتَ تَوَفَّاھَا، لَکَ مَمَاتُھَا وَمَحْیَاھَا اِنْ اَحْیَیْتَھَا فَاحْفَظْھَا وَاِنْ اَمَتَّھَا فَاغْفِرْلَھَا، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ الْعَافِیَۃَ
’’اے اللہ! تو نے میری روح پیدا فرمائی اور تو ہی اسے فوت کرے گا، تیرے ہی لیے (تیرے ہی قبضے میں) اس کی موت اور حیات ہے اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرمانا اور اگر تو اسے موت دے تو اسے معاف فرمانا۔ اے اللہ! بلاشبہ میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الدعاء عندالنوم، حدیث: 6888، ومسند أحمد: 79/2
اَللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْٓ اِلَیْکَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْٓ اِلَیْکَ وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ وَاَلْجَاْتُ ظَھْرِیْ اِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَیْکَ لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَاَ مِنْکَ اِلَّآ اِلَیْکَ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْٓ اَنْزَلْتَ وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْٓ اَرْسَلْتَ
’’اے اللہ! میں نے اپنا نفس تیرے تابع کردیا اور اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کیا اور اپنی پشت تیری طرف جھکائی (ثواب میں) رغبت کرتے ہوئے اور (تیرے عذاب سے) ڈرتے ہوئے، تیری بارگاہ کے سوا کوئی پناہ گاہ ہے نہ جائے نجات، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تونے نازل فرمایا اور تیرے اس نبی پر جسے تونے (ہماری طرف) بھیجا۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الدعوات، باب مایقول إذا نام؟ حدیث: 6313، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الدعاء عند النوم، حدیث: 6882
اَللّٰھُمَّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ
’’اے اللہ مجھے (اس دن) اپنے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔‘‘
وضاحت: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونا چاہتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا تین مرتبہ پڑھتے:
حوالہ: سنن أبی داود، الأدب، باب مایقول عند النوم؟ حدیث: 5045
اَللّٰھُمَّ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّ کُلِّ شَیْءٍ وَمَلِیْکَہٗ، اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطٰنِ وَشرْکِہٖ وَاَنْ اَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِیْ سُوْٓءً ا اَوْ اَجُرَّہٗ اِلٰی مُسْلِمٍ
’’اے اللہ! اے غیب اور حاضر کے جاننے والے! اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! اے ہر چیزکے رب اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس بات سے بھی کہ میں اپنے ہی نفس کے خلاف کسی برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔‘‘
حوالہ: سنن أبی داود، الأدب، باب مایقول إذا أصبح؟ حدیث: 5083، وجامع الترمذی، باب منہ دعائ: اللّٰھم عالم الغیب…، حدیث: 3392
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَاٰوَانَا فَکَمْ مِّمَّنْ لَّا کَافِیَ لَہٗ وَلَا مُوْوِیَ
’’ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں کافی ہوگیا اور ہمیں ٹھکانا دیا، (ورنہ) کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کی نہ کوئی کافیت کرنے والا ہے اور نہ ٹھکانا دینے والا۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الدعاء عندالنوم، حدیث: 6894
اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْاَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی وَمُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْفُرْقَانِ، اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْءٍ اَنْتَ اٰخِذٌم بِنَاصِیَتِہٖ، اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ وَّاَنْتَ الْاٰخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْءٌ وَّاَنْتَ الظَّاھِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ وَّاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْءٌ، اِقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَاَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ
اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب! اور زمین کے رب! اور عرشِ عظیم کے رب! اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! اے دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والے! اور اے تورات و انجیل اور فرقان (قرآن) کو نازل کرنے والے! میں تجھ سے ہر اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے۔ اے اللہ! تو ہی اوّل ہے، پس تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور تو ہی آخر ہے، پس تیرے بعد کوئی چیز نہیں اور تو ہی غالب ہے، پس تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی باطن ہے، پس تجھ سے پوشیدہ کوئی چیز نہیں ہے، ہم سے (ہمارا) قرض ادا کردے اور ہمیں فقر سے نکال کر غنی بنادے۔’’
حوالہ: صحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الدعاء عندالنوم، حدیث: 6889