اَللّٰہُ اَکْبَرُ
’’اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، المساجد، باب الذکر بعد الصلاۃ، حدیث:1316
اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ، اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ، اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ، اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ
’’میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے۔ تو بہت بابرکت ہے اے بڑی شان اور عزت والے!‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ، حدیث:1334
اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ
’’اے اللہ! تو اپنی یاد پر میری مدد فرما اور اپنے شکر پر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت بجا لانے پر۔‘‘
وضاحت: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے معاذ! اللہ کی قسم! مجھے تم سے محبت ہے۔ پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ کسی نماز کے بعد یہ دعا ہرگز ترک نہ کرنا۔
حوالہ: سنن أبی داود، الوتر، باب فی الاستغفار، حدیث:1522
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَآ اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ
’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے۔ اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! اس چیز کو کوئی روکنے والا نہیں جو تو عطا کرے اور جس چیز کو تو روک لے، اس کو کوئی دینے والا نہیں اور کسی صاحب حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے ہاں فائدہ نہیں دے سکتی۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الأذان، باب الذکر بعد الصلاۃ، حدیث:844
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّآ اِیَّاہُ، لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَآئُ الْحَسَنُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ
’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ کی توفیق ہی سے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ اسی کی طرف سے انعام ہے اور اسی کے لیے فضل اور اسی کے لیے بہترین ثنا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اسی کے لیے بندگی کو خالص کرنے والے ہیں، خواہ کافر (اسے) ناگوار سمجھیں۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، المساجد، باب استحباب الذک ر بعد الصلاۃ، حدیث:1343
«سُبْحَانَ اللّٰہِ »(۳۳ مرتبہ)، «اَلْحَمْدُلِلّٰہِ »(۳۳ مرتبہ)، «اَللّٰہُ اَکْبَرُ»(۳۳ مرتبہ) اور آخر میں (ایک مرتبہ) «لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ»
’’اللہ پاک ہے۔ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہی ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘
وضاحت: جو شخص نماز کے بعد یہ ذکر کرے، اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں تب بھی معاف ہوجاتے ہیں۔
حوالہ: صحیح مسلم، المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ، حدیث:1352
اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلۡحَیُّ اَلۡقَیُّوۡمُ ۬ ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ اَلۡعَلِیُّ اَلۡعَظِیۡمُ
’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندۂ جاوید (اور) قائم و دائم ہے۔ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے وہ جو اس کے ہاں سفارش کرسکے مگر اس کی اجازت سے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے۔ اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہ بلندتر، نہایت عظمت والا ہے۔‘‘
وضاحت: ہر نماز کے بعد تینوں قل٭ اور آیۃ الکرسی پڑھی جائے۔ جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے، اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا کوئی چیز نہیں روکے گی۔
حوالہ: ٭سنن أبی داود، الوتر، باب فی الاستغفار، حدیث:1523 … البقرۃ 255:2، وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، حدیث:972، والسنن الکبرٰی للنسائی، حدیث:9928
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے، وہی زندگی دیتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘
وضاحت: فجر اور مغرب کی نماز کے بعد دس دفعہ یہ دعا پڑھے:
حوالہ: جامع الترمذی، الدعوات، باب فی ثواب کلمۃ التوحید التی فیھا، حدیث:3474، ومسند أحمد: 227/4
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًا طَیِّبًا وَّعَمَلًا مُّتَقَبَّلًا
’’اے اللہ! بے شک میں تجھ سے نفع دینے والے علم کا سوال کرتا ہوں اور پاکیزہ رزق کا اور ایسے عمل کا جو قبول کرلیا جائے۔‘‘
وضاحت: فجر کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
حوالہ: سنن ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، باب مایقال بعد التسلیم؟ حدیث:925