فکرمندی اور غم سے نجات کی دعائیں

2 Duas
2.00x

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ، وَابْنُ عَبْدِکَ، وَابْنُ اَمَتِکَ، نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَآؤُکَ، اَسْئَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ، سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ، اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتَابِکَ، اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ، اَوِاسْتَاْثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ، وَنُوْرَ صَدْرِیْ، وَجَلَآءَ حُزْنِیْ، وَذَھَابَ ھَمِّیْ

’’اے اللہ! یقیناً میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے ہی بندے اور تیری ہی کنیز کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، مجھ میں تیرا ہی حکم جاری و ساری ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ مبنی بر انصاف ہے، میں تیرے ہر اس خاص نام کے ذریعے سے تجھ سے درخواست کرتا ہوں جو تونے خود اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا تونے اسے علمِ غیب میں اپنے پاس (رکھنے کو) خاص کیا ہے (میں درخواست کرتا ہوں) کہ تو قرآن مجید میرے دل کی بہار بنادے اور میرے سینے کا نور، میرے غموں کا علاج اور میرے فکروں کا تریاق بنادے۔‘‘

حوالہ: مسند أحمد: 391/1۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ وَ الْحَـزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ

’’اے اللہ! میں پناہ چاہتا ہوں تیرے ذریعے سے پریشانی اور غم سے، عاجز ہوجانے اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے۔‘‘

حوالہ: صحیح البخاری، الدعوات، باب الاستعاذۃ من الجبن والکسل، حدیث:6369