سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ
’’اللہ نے سُن لی جس نے اس کی تعریف کی۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الأذان، باب مایقول الإمام ومن خلقہ؟ حدیث:795۔
رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرً طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ
’’اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے۔ تعریف بہت زیادہ، پاکیزہ جس میں برکت کی گئی ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، الأذان، باب، حدیث:799
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمٰوٰتِ وَمِلْءَ الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْءٍم بَعْدُ، اَھْلَ الثَّنَآءِ وَالْمَجْدِ، اَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ
’’اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے اتنی کہ جس سے آسمان بھر جائیں اور جس سے زمین بھر جائے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور اس کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جسے تو چاہے۔ اب تعریف اور بزرگی کے لائق! سب سے سچی بات جو بندے نے کہی جب کہ ہم سب تیرے ہی بندے ہیں (یہ ہے کہ) اے اللہ! جو تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ اور کسی صاحب حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، الصلاۃ، باب مایقول إذا رفع رأسہ من الرکوع؟ حدیث:1072